راشن دیتے تصاویر بنا کر غریب لوگوں کی عزت نفس مجروح نہ کرو

 ہمارے ابا ایک مزدور آدمی تھے۔ ہم جب سے سمجھ دار ہوئے ہم نے انھیں معمولی معاوضے پر گاؤں بھر کے کام کاج کرتے دیکھا۔ہمیں یاد ہے کہ جب ہم بھائی پانچ سات سیر وزن اٹھانے کے قابل ہوئے تو ابا کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی بوجھ اٹھانا شروع کر دیا تھا

ابا کی کمائی سے جو روکھی سوکھی ملتی ہم بہن بھائی خوشی خوشی کھا لیتے۔ مگر بچے تھے کبھی کبھار اچھا کھانے کی خواہش دل میں ضرور جاگتی۔۔مگر اسے ہم ہر بار تھپکی دے کر سلا دیتے۔
ابا نے مرغیاں پالی ہوئی تھیں ۔ عید پر جب پھپھو آتی تو جاتے ہوئے ابا انھیں دو مرغیاں دے دیتے۔ اس کے علاوہ بھی جب کبھی آتیں تو ابا انھیں ان مرغِیوں کے دیسی انڈے دیتے یعنی خالی ہاتھ وہ پھپھو کو کبھی نہیں جانے دیتے تھے۔
ہر ماہ میں ایک آدھ بار ابا انھی مرغیوں میں سے کسی ایک کو ذبح کرتے تو ہم بہن بھائی بہت خوش ہوتے۔ ہمیں سیر ہو کر کھاتے دیکھنا ہی ہمارے اماں ابا کی خوشی کا باعث ہوتا سو وہ مہینے بعد پکنے والا گوشت بھی نہ کھاتے اور اپنے حصے کی بوٹیاں ہماری پلیٹوں میں ڈال دیتے۔ اس کے باوجود ہم نئے سرے سے اگلے ماہ کے دن گننا شروع کردیتے۔ کہ کب مرغی پکے گی اور ہم کھائیں گے۔
ابا اکثر ہم بھائیوں کو بھی اپنے ساتھ کام پر لے جاتے تھے کہ کچھ اور ملے نہ ملے میرے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا تو مل جائے گا۔ مگر اکثر ایسا ہوا کہ کھانا آتے آتے ہم بھوک سے نڈھال ہوجاتے اور تھک کر لمحہ بھر کے لیے بیٹھ جاتے تو پیچھے سے آواز آتی کہ:
"کام نہیں کرسکتے بس پیسے بٹورنے آجاتے ہیں"۔
اکثر تو ابا کو بھی ہڈحرام ہونے کے طعنے سننا پڑتے۔ان باتوں سے دل بہت دکھتا مگر پیٹ نے ہمارے جذبات کو شاید کہیں پھانسی دے دی تھی ۔ ہم بے زبان انسان بن چکے تھے ۔ بعض لوگ تو مزدوری ہی مار دیتے۔ ابا کو مزدوری مانگنے پر بہت بار باتیں بھی سننا پڑتیں۔جیسے حق نہیں بل کہ خیرات مانگ رہے ہوں۔
ایک عرصے بعد جب ہم بھائی مزدوری میں ماہر ہو گئے تو ایک دن ہمیں بہت اچھی مزدوری ملی۔ان دنوں ابا بھی بیمار تھے ۔مرغیاں بھی مر چکی تھیں۔ہم نے اماں ابا کے لیے دو مرغیاں اور بہت سا فروٹ خریدا۔ہم نے سوچا کہ آج ہم سب مل کر جی بھر کے گوشت کھائیں گے۔بالخصوص ابا جی کو خوش کرنا آج ہماری سب سے بڑی خواہش تھی۔
انھی سوچوں میں گم شام جب ہم گھر کے پاس پہنچے تو اماں کے چیخنے کی آوازیں دور سے سنائی دیں۔۔۔ہمارا ماتھا ٹھنکا۔بھاگتے بھاگتے گھر میں داخل ہوئے۔ابا کے کمرے میں پہنچے تو دیکھا ابا سفید چادر اوڑھے چارپائی پر پڑے ہیں۔
اور ماں کے بین آسمان چیر ریے ہیں۔ وہ میت سے مخاطب ہو کر کَہ رہی تھیں کہ سرتاج آپ تو آج خوشی خوشی اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے مرغی لانے گئے تھے۔۔۔لے بھی آئے مگر خود کیوں نہیں رکے۔۔۔؟
ماں نے روتے ہوئے بتایا کہ ابا کسی جگہ راشن لینے گئے تھے جہاں انھیں پہروں قطار میں کھڑا رہنا پڑا۔ واپسی پر ابا کے الفاظ تھے: "میرے پھٹے پرانے کپڑوں نے میرے وجود کو ڈھانپا ہوا تھا، مگر آج وہاں خیرات وصول کرتے جو میری تصاویر بنائی گئیں ان تصویروں نے میری غربت کا مذاق اڑایا، اور یوں محسوس ہوا جیسے میری غربت کو چوک پر برہنہ کر کے اس کی نمائش کی گئی ہے"
آج ابا جی کی میت کو کندھا دینے کے لیے بہت لوگ ائے تھے۔ اس دن ہمارے گھر گوشت اور راشن بھی بہت آیا۔مگر اماں نے نہ اس دن گوشت کی طرف دیکھا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی گوشت کھایا۔ بس وہ یہی کہتی تھیں کہ تمھارے ابا خود اور اپنی اولاد کو جی بھر کر گوشت کھلانے کی حسرت دل میں لیے دنیا سے اٹھ گئے۔اب میں کس منھ سے گوشت کھاؤں ۔
ابا کو دنیا سے اٹھے بہت عرصہ بیت گیا مگر ساری زندگی ہم یہی بوجھ لیے پھرتے رہے ہیں کہ کاش ابا کو جی بھر کر گوشت کھلا سکتے کاش ہم اس قابل ہوتے کہ اّس دن ابا بیماری کی حالت میں راشن لینے نہ جاتے ۔۔۔ابا کی تصاویر بنا کر ان کی بےبسی کا تماشا نہ لگتا۔
"ابا ہم نے اماں سے سنا ہے کہ آپ کو گوشت بہت پسند تھا مگر ناجانے آپ ہمیشہ اپنے حصے کا گوشت ہماری تھالی میں کیوں رکھ دیتے تھے۔ ابا! ہم نے آپ کو ہمارے لیے ہمیشہ دھکے کھاتے دیکھا۔
ابا جی! جو بوجھ آپ کی کمر پہ تھا وہ اب ہمارے دل پر ہے۔ کاش آپ اتنی زندگی پالیتے کہ ہم سب ساتھ مل کر جی بھر کے گوشت کھالیتے۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

What Happened When We Didn’t Feed a Dog for Two Days

never destroy someone's life

Journey to Hunza